قرآن کا تعارف

البیان: مقدمہ

اپنے مضمون کے لحاظ سے قرآن ایک رسول کی سرگذشت انذار ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق معلوم ہے کہ آپ نبوت کے ساتھ رسالت کے منصب پر بھی فائز تھے۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو خلق کی ہدایت کے لیے مبعوث فرماتے ہیں اور اپنی طرف سے وحی و الہام کے ذریعے سے اُن کی رہنمائی کرتے ہیں، اُنھیں نبی کہا جاتا ہے، لیکن ہر نبی کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ رسول بھی ہو۔ رسالت ایک خاص منصب ہے جو نبیوں میں سے چند ہی کو حاصل ہوا ہے۔ قرآن میں اِس کی تفصیلات کے مطابق رسول اپنے مخاطبین کے لیے خدا کی عدالت بن کر آتا ہے اور اُن کا فیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ رسولوں کی دعوت میں یہ فیصلہ انذار، انذار عام، اتمام حجت اور ہجرت و براءت کے مراحل سے گزر کر صادر ہوتا اور اِس طرح صادر ہوتا ہے کہ آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی، خدا کی دینونت* کا ظہور ہوتا اور رسول کے مخاطبین کے لیے ایک قیامت صغریٰ برپا ہو جاتی ہے۔ اِس دعوت کی جو تاریخ قرآن میں بیان ہوئی ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس موقع پر بالعموم دو ہی صورتیں پیش آتی ہیں: ایک یہ کہ پیغمبر کے ساتھی بھی تعداد میں کم ہوتے ہیں اور اُسے کوئی دارالہجرت بھی میسر نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ وہ معتدبہ تعداد میں اپنے ساتھیوں کو لے کر نکلتا ہے اور اُس کے نکلنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کسی سرزمین میں اُس کے لیے آزادی اور تمکن کے ساتھ رہنے بسنے کا سامان کر دیتا ہے۔ اِن دونوں ہی صورتوں میں رسولوں سے متعلق خدا کی وہ سنت لازماً روبہ عمل ہو جاتی ہے جو قرآن میں اِس طرح بیان ہوئی ہے:

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ، فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ.

(یونس ۱۰: ۴۷)

''ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا رسول آ جاتا ہے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔''

پہلی صورت میں رسول کے قوم کو چھوڑ دینے کے بعد، عام اِس سے کہ وہ اُس کی وفات کی صورت میں ہو یا ہجرت کی صورت میں، یہ فیصلہ اِس طرح صادر ہوتا ہے کہ آسمان کی فوجیں نازل ہوتیں، صاف و حاصب کا طوفان اٹھتا اور ابر و باد کے لشکر قوم پر اِس طرح حملہ آور ہو جاتے ہیں کہ رسول کے مخالفین میں سے کوئی بھی زمین پر باقی نہیں رہتا۔ تاہم یہ معاملہ اُنھی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کے لیے قرآن اپنی اصطلاح میں 'مُشْرِکِیْن' کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اصلاً توحید ہی سے وابستہ ہوتے ہیں، اُن کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوتا۔ اُن کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اُن کے استیصال کے بجاے اُن پر ذلت اور محکومی کا عذاب مسلط کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ معلوم ہے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا اور قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح، قوم لوط، قوم شعیب اور اِس طرح کی بعض دوسری قومیں اِس کے برخلاف زمین سے مٹا دی گئیں*۔

دوسری صورت کے لیے بھی یہی قانون ہے، لیکن اُس میں عذاب کا یہ فیصلہ رسول اور اُس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے نافذ کیا جاتا ہے۔ اِس صورت میں قوم کو مزید کچھ مہلت مل جاتی ہے۔ رسول اِس عرصے میں دارالہجرت کے مخاطبین پر اتمام حجت بھی کرتا ہے، اپنے اوپر ایمان لانے والوں کی تربیت اور تطہیر و تزکیہ کے بعد اُنھیں اِس معرکۂ حق و باطل کے لیے منظم بھی کرتا ہے اور دارالہجرت میں اپنا اقتدار بھی اِس قدر مستحکم کر لیتا ہے کہ اُس کی مدد سے وہ منکرین کے استیصال اور اہل حق کی سرفرازی کا یہ معرکہ سر کر سکے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یہی دوسری صورت پیدا ہوئی۔ چنانچہ آپ کی طرف سے انذار، انذار عام، اتمام حجت، ہجرت و براءت اور اپنے مخاطبین کے لیے جزا و سزا کی یہ سرگذشت ہی قرآن کا موضوع ہے۔ اِس کی ہر سورہ اِسی پس منظر میں نازل ہوئی ہے اور اِس کے تمام ابواب اِسی لحاظ سے مرتب کیے گئے ہیں۔

اِس ترتیب کی نوعیت بالاجمال یہ ہے کہ قرآن کی تمام سورتیں آپس میں توام بنا کر اور سات ابواب کی صورت میں جمع کی گئی ہیں، یعنی ہر سورہ مضمون کے لحاظ سے اپنا ایک جوڑا اور مثنیٰ رکھتی ہے اور دونوں میں اُسی طرح کی مناسبت ہے، جس طرح کی مناسبت زوجین میں ہوتی ہے۔ اِس سے مستثنیٰ چند سورتیں ہیں جن میں سے فاتحہ پورے قرآن کے لیے بمنزلۂ دیباچہ اور باقی تتمہ و تکملہ یا خاتمۂ باب کے طور پر آئی ہیں۔ پھر سات مجموعوں کی صورت میں جنھیں ہم نے ابواب سے تعبیر کیا ہے، یہ سورتیں قرآن میں مرتب کر دی گئی ہیں۔ قرآن سے متعلق یہ حقیقت سورۂ حجر میں اِس طرح بیان ہوئی ہے:

وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ.

(۱۵:۸۷)

''ہم نے، (اے پیغمبر)، تم کو سات مثانی*، یعنی قرآن عظیم عطا کر دیا ہے۔''

قرآن کے اِن ساتوں ابواب میں سے ہر باب ایک یا ایک سے زیادہ مکی سورتوں سے شروع ہوتا ہے اور ایک یا ایک سے زیادہ مدنی سورتوں پر ختم ہو جاتا ہے۔

پہلا باب فاتحہ سے شروع ہوتا اور مائدہ پر ختم ہوتا ہے۔ اِس میں فاتحہ مکی اور باقی چار مدنی ہیں۔

دوسرا باب انعام اور اعراف، دو مکی سورتوں سے شروع ہوتا ہے اور دو مدنی سورتوں، انفال اور توبہ پر ختم ہوتا ہے۔

تیسرے باب میں یونس سے مومنون تک پہلے چودہ سورتیں مکی ہیں اور آخر میں ایک سورۂ نور ہے جو مدنی ہے۔

چوتھا باب فرقان سے شروع ہوتا ہے، احزاب پر ختم ہوتا ہے۔ اِس میں پہلی آٹھ سورتیں مکی اور آخر میں ایک، یعنی احزاب مدنی ہے۔

پانچواں باب سبا سے شروع ہوتا ہے، حجرات پر ختم ہوتا ہے۔ اِس میں تیرہ سورتیں مکی اور آخر میں تین مدنی ہیں۔

چھٹا باب ق سے شروع ہو کر تحریم پر ختم ہوتا ہے۔ اِس میں سات مکی اور اِس کے بعد دس مدنی ہیں۔

ساتواں باب ملک سے شروع ہو کر ناس پر ختم ہوتا ہے۔ اِس میں آخری دو، یعنی معوذتین مدنی اور باقی سب مکی ہیں۔

اِن میں سے ہر باب کا ایک موضوع ہے۔

پہلے باب کا موضوع یہود و نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس، اُس کا تزکیہ و تطہیر اور اُس کے ساتھ خدا کا آخری عہد و پیمان ہے۔

دوسرے باب میں مشرکین عرب پر اتمام حجت، مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر اور خدا کی آخری دینونت کا بیان ہے۔

تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے باب کا موضوع ایک ہی ہے اور وہ انذار و بشارت اور تزکیہ و تطہیر ہے۔

ساتویں اور آخری باب کا موضوع قریش کے سرداروں کو انذار قیامت، اُن پر اتمام حجت، اِس کے نتیجے میں اُنھیں عذاب کی وعید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سرزمین عرب میں غلبۂ حق کی بشارت ہے۔ اِسے ہم مختصر طریقے پر محض انذار و بشارت سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔

اِن میں سے پہلے باب کو الگ کر لیجیے تو قرآن میں اِن کی ترتیب خاتمہ سے ابتدا کی طرف ہے۔ چنانچہ ساتواں باب انذار و بشارت ہی پر مکمل ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد چھٹے، پانچویں، چوتھے اور تیسرے باب میں انذار و بشارت کے ساتھ تزکیہ و تطہیر کا مضمون بھی شامل ہو گیا ہے۔ پھر دوسرا اور اِس سلسلے کا آخری باب ہے جس میں پیغمبر کا انذار اپنے منتہا کو پہنچتا ہے۔ لہٰذا اتمام حجت اور تزکیہ و تطہیر کے ساتھ اُس میں مخاطبین کے لیے آسمان کی عدالت کا وہ فیصلہ بھی سامنے آ جاتا ہے جسے ہم قیامت سے پہلے خدا کی آخری دینونت سے تعبیر کرتے ہیں۔

پہلا باب اِس لحاظ سے بالکل الگ ہے کہ مشرکین عرب کے بجاے وہ یہود و نصاریٰ کے لیے خاص ہے، لیکن قرآن کی ابتدا سے دیکھیے تو یہ بھی اتمام حجت اور تزکیہ و تطہیر کے بعد سورۂ توبہ میں دینونت کے مضمون سے بالکل اُسی طرح مربوط ہوتا ہے، جس طرح اوپر کے ابواب، اگر خاتمے سے ابتدا کی طرف آئیے تو ترتیب صعودی سے مربوط ہوئے ہیں۔ لہٰذا دوسرا باب گویا ایک ذروۂ سنام ہے جہاں دونوں طرف سے ایک ہی مضمون محض اِس فرق کے ساتھ کہ مخاطبین تبدیل ہو گئے ہیں، اپنے نقطۂ کمال تک پہنچتا اور ختم ہو جاتا ہے۔

اِس سے واضح ہے کہ دوسرے باب سے آگے ترتیب نزولی کا طریقہ پہلے باب کے لیے ربط کی اِسی ضرورت کے پیش نظر اختیار کیا گیا ہے۔

پہلا باب اِس ترتیب میں مقدم اِس لیے ہوا ہے کہ حاملین قرآن اب اولاً اِسی کے مخاطب ہیں۔ انذار و بشارت اور اتمام حجت کا مضمون، پہلے باب کو چھوڑ کر بالعموم مکیات اور تزکیہ و تطہیر کا مضمون مدنیات میں بیان ہوتا ہے، لیکن یہ دونوں بھی ہر باب میں اِس طرح ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں گویا جڑ سے تنا اور تنے سے شاخیں پھوٹ رہی ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے نتیجے میں خدا کی جو عدالت سرزمین عرب میں قائم ہوئی، اُس کی روداد اِس حسن ترتیب کے ساتھ اِس کتاب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی گئی ہے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو قرآن مذہب کا یہ بنیادی مقدمہ بالکل آخری درجے میں ثابت کر دیتا ہے کہ خدا کی عدالت پورے عالم کے لیے بھی ایک دن اِسی طرح قائم ہو کر رہے گی۔

* یعنی قضا اور جزا و سزا۔

* یہ وہی ضابطہ ہے جو قیامت میں اختیار کیا جائے گا۔ چنانچہ سورۂ نساء (٤) کی آیت ٤٨ میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہاں بھی شرک کو معاف نہیں کرے گا۔ اِس کے نیچے، البتہ جس کے لیے جو گناہ چاہے گا، معاف فرما دے گا۔

* 'مَثَانِی' 'مَثْنٰی' کی جمع ہے اور اِس کے معنی ہیں وہ چیز جو دو دو کرکے ہو۔