اختتامی کلمات
البیان: خاتمہ
اس ترجمہ پر کام کی ابتدا اگرچہ ۱۹۸۵ء میں کسی وقت ہو گئی تھی، لیکن "میزان" کی تصنیف کے دوران میں یہ اتنا ہی کیا جاتا تھا، جتنا ماہنامہ "اشراق" میں اس کی اشاعت کے لیے ضروری ہوتا تھا۔ اس پر باقاعدہ طریقے سے اور پوری یک سوئی کے ساتھ کام اُس وقت شروع ہوا، جب اپریل ۲۰۰۷ء میں "میزان" مکمل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کیا جائے، کم ہے کہ اُس کی عنایت سے ۱۵ ستمبر ۲۰۱۴ء کی رات ۲ بجے ترجمے کا یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ اس کے آخری دو باب چونکہ پہلے لکھے جا چکے تھے، اِس لیے کام کا خاتمہ سورۂ حجرات (۴۹) پر ہوا ہے جو قرآن کے پانچویں باب کی آخری سورہ ہے۔
قرآن کا انداز کلام یہ ہے کہ وہ بات کی تعلیل کرتا ہے، لیکن اُس پر دلالت کے لیے بارہا کوئی لفظ استعمال نہیں کرتا؛ تمثیل پیش کرتا ہے، لیکن تقابل کے اصول پر اُس کے بعض اجزا حذف کر دیتا ہے، انھیں لفظوں میں بیان نہیں کرتا؛ ایک آسمانی خطیب کی طرح کبھی ایک اور کبھی دوسرے گروہ کو مخاطب کرتا ہے، لیکن بارہا شان کلام کے سوا کسی چیز سے اُس پر متنبہ نہیں کرتا؛ پے در پے جوابات دیتا چلا جاتا ہے، لیکن جن سوالات، اعتراضات اور شبہات کا جواب دیتا ہے، اُن کو نقل نہیں کرتا یا کرتا بھی ہے تو نہایت اجمال کے ساتھ، جسے جواب ہی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اصل، فرع، اعتراض، اتمام، تقابل، تشابہ، استدراک اور عود علی البدء کے طریقے پر ایک کے بعد دوسری بات کہتا چلا جاتا ہے، لیکن آگے اور پیچھے سے کلام کے یہ روابط الفاظ میں واضح نہیں کرتا۔ یہ اُسی انداز کلام کا منتہاے کمال ہے جو عہد عتیق کے خطبا اختیار کرتے تھے۔ اہل عرب اس کے ذوق آشنا تھے اور خوب سمجھتے تھے کہ اس سے کلام کی تاثیر اور بلاغت کسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔
برصغیر کے جلیل القدر عالم اور محقق امام حمید الدین فراہی نے علمی دنیا کو جس نظم سے متعارف کرایا ہے، وہ اسی انداز کلام کو سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے کلام کے یہ مضمرات اپنی تفسیر "تدبر قرآن" میں پوری وضاحت کے ساتھ کھول دیے ہیں، لیکن ترجمہ اسی طریقے سے کیا ہے، جس طریقے سے قرآن کے مترجمین بالعموم کرتے رہے ہیں۔ زمانہ طالب علمی ہی سے میرا احساس تھا کہ الفاظ کے حسن اور جملوں کے غنا اور موسیقی اور دروبست کے جمال و کمال کو تو ہم کسی بھی کلام کے ترجمے میں منتقل نہیں کر سکتے، مگر قرآن کا ترجمہ کرتے وقت جب ان روابط کو بھی چھوڑ دیتے ہیں تو اُس کے قاری کو مدعا کے ایک بڑے حصے سے، بلکہ بعض اوقات اصل مدعا ہی سے محروم کر دیتے ہیں۔
میں نے یہ ترجمہ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیا ہے اور کلام کے یہ روابط ترجمے کے اندر ہی اس طرح کھول دیے ہیں کہ الفاظ اور جملوں کے لازمی متعلقات پر قوسین بھی نہیں لگائے ہیں، اس لیے کہ وہ در حقیقت اُنھی کے مقدرات اور مدلولات ہیں جو عربیت کے اسلوب پر الفاظ میں بیان نہیں کیے گئے۔ اس سے توقع ہے کہ قارئین قرآن کے مدعا اور نظم اور حسن بیان کے وہ پہلو اس ترجمے میں کسی حد تک دیکھ سکیں گے جو بالعموم نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ وہ دیکھیں گے کہ ان روابط کے اظہار سے ہر سورت اپنے موضوع کے لحاظ سے کس طرح ایک حسین وحدت میں ڈھل گئی ہے، تاویل کے اختلافات کی گنجایش کس طرح قریب قریب ختم ہو گئی ہے، قرآن کی ترتیب کا حسن کس طرح نمایاں ہوا ہے اور آیتوں کا مدعا کس وضاحت، تعیین اور قطعیت کے ساتھ سامنے آیا اور اُن کی بلاغت کسی شان کے ساتھ بے نقاب ہوئی ہے۔
اپنے اس کام کے بارے میں میں یہاں بھی وہی بات کہوں گا جو اس سے پہلے "میزان" کے خاتمہ میں لکھ چکا ہوں کہ اس میں جو رائے بھی قائم کی گئی ہے، ماضی و حال کی کسی شخصیت یا شخصیات کے اعتماد پر نہیں، بلکہ زبان و بیان اور فہم کلام کے اُن فطری اصولوں کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے جو کلام کے مدعا تک پہنچنے کے لیے مسلمات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ یہی سبب ہے کہ متعدد مقامات پر میرا نقطہ نظر میرے جلیل القدر استاذ امام امین احسن اصلاحی سے بھی مختلف ہو گیا ہے۔ تاہم یہ ایک انسان کا کام ہے جو غلطیوں سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ میں اسے بار بار دیکھتا اور اس کی اصلاح کرتا رہا ہوں۔
پچھلے چند برسوں میں عزیزم رضوان اللہ نے بھی اسے دو مرتبہ نہایت دقت نظر کے ساتھ پڑھا اور مفید اصلاحات تجویز کی ہیں جن میں سے زیادہ تر کو میں نے قبول کر لیا ہے۔ یہی معاملہ مولانا امانت اللہ صاحب اصلاحی کے افادات کا ہے۔ اس کے بعد بھی ہر وقت اصلاح و ترمیم کی گنجایش ہے اور جب تک زندہ ہوں، اگر خدا نے چاہا تو کرتا رہوں گا۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ اس کی کتاب کے معاملے میں جان بوجھ کر کوئی غلطی کروں یا کسی غلطی پر جما رہوں۔
پچھلے پانچ برس سے غریب الدیار ہوں اور اُن سب مراحل سے گزر رہا ہوں جن سے کوئی شخص اپنے وطن سے ہجرت کے بعد گزرتا ہے۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ برادرم شیخ افضال احمد صاحب نے مجھے معاشی جدوجہد سے حسب سابق بے نیاز کیے رکھا اور میرے احباب و متعلقین، خاص طور میری اہلیہ کا تعاون مجھے ابتلا کے اس دور میں بھی اُسی طرح حاصل رہا ہے، جس طرح "میزان" کی تصنیف کے دوران میں حاصل تھا۔ میں ان سب کے نام "میزان" کے خاتمہ میں لکھ چکا ہوں۔ ان میں ایک نمایاں اضافہ میاں عامر محمود اور میر ابراہیم رحمن کا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ترجمہ سے اگر اس کی کتاب کی کوئی خدمت ہوئی ہے تو وہ اسے قبول فرمائے اور میری اور میرے ان احباب و متعلقین کی مغفرت کا ذریعہ بنادے۔
اس ترجمے کی طباعت کا اہتمام "المورد" کے شعبہ نشر و اشاعت میں عزیزم جواد احمد غامدی کر رہے ہیں۔ مجھے یہاں اُن کا اور ان کے عملے کے لوگوں، خاص طور پر شاہد رضا، محمد عظیم ایوب، اظہر امیر، نعیم احمد، حافظ قادر حسین اور محمد مشتاق کا شکریہ بھی ادا کرنا ہے۔ وہ یہ کام جس محنت اور ذمہ داری کے ساتھ کر رہے ہیں، وہ ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے۔
خدایا، اس ترجمے کی تکمیل کے ساتھ میں اُس عمر کو پہنچ گیا ہوں، جب دنیا پیچھے رہ جاتی اور آخرت قریب ہوتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اگر آج بلا لیا جاؤں تو تیرے حضور میں پیش کرنے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ تاہم التجا کر رہا ہوں کہ اس فقیر بے مایہ اور عاجز مطلق کے گناہوں اور غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرمادے، اِس لیے کہ تو قادر مطلق ہے اور تیرا کرم بے نہایت ہے:
عصیانِ ما و رحمتِ پروردگارِ ما
ایں را نہایت است نہ آں را نہایتے
لاہور
اتوار ۲۸؍ ستمبر ۲۰۱۴ء
بمطابق ۲؍ذوالحجہ ۱۴۳۵ھ